ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / داعش کے الزامات کے تحت گرفتار ملزمین کی ضمانت عرضداشت دہلی ہائی کورٹ میں داخل

داعش کے الزامات کے تحت گرفتار ملزمین کی ضمانت عرضداشت دہلی ہائی کورٹ میں داخل

Mon, 30 May 2016 20:13:29    INS India/SO news

خصوصی این آئی اے عدالت نے غلط فیصلہ کیا: ایڈوکیٹ ایم ایس خان

دہلی30مئی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)ممنوعہ تنظیم داعش کے رکن ہونے کے الزامات کے تحت گرفتار۱۱؍ مسلم نوجوانوں کی ضمانت عرضداشت ملزمین کو قانونی امدادفراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علما مہاراشٹر(ارشد مدنی) کے دفاعی وکیل ایم ایس خان نے آج دہلی ہائی کورٹ میں داخل کی اورعرضداشت میں بتایا کہ خصوصی این آئی اے عدالت نے گذشتہ دنوں ملزمین کی ضمانت عرضداشت مستردکرکے غلط فیصلہ کیاہے کیونکہ تفتیشی ایجنسی نے وقت مقررہ میں ملزمین کے خلاف فرد جرم عدالت میں داخل نہیں کیاتھا ۔ ایڈوکیٹ ایم ایس خان نے سی آرپی سی کی دفعہ162(2)کے تحت ملزمین،ابو انس، محمد افضل،سہیل احمد،محمد علیم،آصف علی،محمدحسین،محمدعمران، سید مجاہد، محمد عبید اللہ خان ، نجم الہدی اور عبدالاحد کو ضمانت پررہا کیئے جانے کی درخواست داخل کی ہے اور عدالت کو بتایا کہ ملزمین کی گرفتاری کو ۱۸۰؍ دنوں کا عرصہ گذرچکا ہے اور قانون کے مطابق تحقیقاتی دستہ کو ۱۸۰؍ ایام کے ختم ہونے سے قبل عدالت میں فرد جرم داخل کردینا چاہئے اور اگر تحقیقاتی دستہ ایسا کرنے میں ناکام ثابت ہوتا ہے تو ملزمین کو اس کا فائدہ ملنا چاہئے اور ان کی ضمانت منظور کی جانی چاہئے ۔ عرضداشت میں بتایا گیا کہ ملزم نمبر ۱ سے لیکر ملزم نمبر ۱۲ کی گرفتاری ۲۲؍ جنوری کو عمل میں�آئی تھی جبکہ ملزمین نمبر ۱۳؍ اور ۱۴؍ کی گرفتاری ۲۳؍ جنوری کو ہوئی تھی اور غیر قانونی سرگرمیوں کے روک تھام والے قانون کی دفعہ 43D(2)(b)کے مطابق تحقیقاتی دستوں کو ۹۰؍ دنوں میں ملزمین کے خلاف فرد جرم عائدداخل کردینا چاہئے لیکن اس معاملے میں تحقیقاتی دستوں نے ابھی تک چارج شیٹ داخل نہیں کی ہے لہذا ملزمین کو سی آر پی سی کی دفعہ 162(2) کے تحت ضمانت پر رہا کیا جائے ۔جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزاراعظمی نے اس موقع پرکہاکہ ملزمین کی ضمانت عرضداشتیں تکنیکی بنیادوں پر داخل کی گئی ہیں کیونکہ ابھی تک تحقیقاتی دستہ نے کسی بھی ملزم کے خلاف فرد جرم خصوصی این آئی اے عدالت میں داخل نہیں کیا ہے اور قانون کے مطابق اگر وقت مقررہ پر ملزم کے خلاف فردجرم داخل نہیں کی جاتی ہے تو اسے ضمانت پر رہا کیا جانا چاہئے لیکن متذکرہ معاملے میں نچلی عدالت نے غلطی کی جس کی وجہ سے جمعیۃ علماء کو دہلی ہائی کورٹ سے رجوع ہونا پڑا ۔گلزار اعظمی نے مزید کہا کہ ۱۴؍ میں سے ۱۱؍ ملزمین کی ضمانت عرضداشت آج داخل کی گئی ہے اور مزید تین ملزمین محمد نفیس خان، محمد شریف معین الدین خان ،مدبر مشتاق شیخ کی درخواست ضمانت اگلے چندایام میں داخل کردی جائے گئی۔

Share: